دل میں ٹھہری صدا
سمندر چُپ ہے مگر دل کی صدا باقی ہے لوٹ کر خود میں ہی آ جانا دوا باقی ہے ریگِ ساحل پہ جو نقشِ قدم رکھ آئے تھے وہ تو مٹ جائے مگر یادِ وفا باقی ہے ڈوبتا سورج مجھے کہہ گیا، خاموش رہو ہر نئی صبح کے پیچھے بھی ضِیا باقی ہے دل کی تنہائی میں اک روشنی ٹھہری ہوئی بے صدا ہم ہیں مگر ایک حیا باقی ہے لہروں آواز سے بڑھ کر مجھے احساس ملا میں بکھر بھی جاؤں، دل میں کوئی صدا باقی ہے وقت تھم جائے مگر رستہ نہیں رکتا کبھی جو سفر ہم نے چُنا اُس کی سزا باقی ہے زندگی ریت ہی سہی، ہاتھ میں ٹھہرتی نہیں ارقمؔ پھر بھی اُمید کی پلک پر اِک دعا باقی ہے