مدحِ عمرؓ
چراغِ حق سے منوّر ہے ہر کام، عمرؓ
وہی تو دین کا مینارِ استحکام، عمرؓ
دلِ فقیر میں چھُپا بادشاہِ اسلام، عمرؓ
زمین لرزتی تھی جن سے، وہی امام، عمرؓ
قلم لرزتا ہے لکھنے پہ اُن کے نام، عمرؓ
چراغِ عدل کے روشن وہی پیام، عمرؓ
خدا کے نور سے قائم ہے وہ نظام، عمرؓ
جو بن گیا ہے ابد تک نظامِ عام، عمرؓ
وہی پیامِ وفا، وہی دوام، عمرؓ
ہر اک ورق پہ چمکتا ہے ان کا نام، عمرؓ
کہ خود قلم بھی ہو جائے ان کے غلام، عمرؓ
