Posts

Showing posts from April, 2026

فاروقِ اعظمؓ: پیکرِ عدل

Image
مدحِ عمرؓ مدحِ عمرؓ جہانِ عدل میں گونجتا ہے ان کا نام، عمرؓ چراغِ حق سے منوّر ہے ہر کام، عمرؓ نبی کے بعد جو امت کا نگہبان بنا وہی تو دین کا مینارِ استحکام، عمرؓ نہ تخت مانگا، نہ زر کا ہوا غلام کبھی دلِ فقیر میں چھُپا بادشاہِ اسلام، عمرؓ نمازِ فجر میں آنسو، خشیتِ ربّ عیاں زمین لرزتی تھی جن سے، وہی امام، عمرؓ جہادِ نفس میں فاتح، جلال میں بے مثال قلم لرزتا ہے لکھنے پہ اُن کے نام، عمرؓ رعیتوں کے لیے شب بیداریوں میں رہے چراغِ عدل کے روشن وہی پیام، عمرؓ جلال ایسا کہ لرزتا تھا باطل تمام خدا کے نور سے قائم ہے وہ نظام، عمرؓ دیا وہ عدل کا دستور، ہو گیا دائم جو بن گیا ہے ابد تک نظامِ عام، عمرؓ نبی کا عشق دلوں میں وہ بانٹ جاتے تھے وہی پیامِ وفا، وہی دوام، عمرؓ جہانِ عشق میں کردار کی کتاب وہی ہر اک ورق پہ چمکتا ہے ان کا نام، عمرؓ اَرقم نے مدح لکھی دل کے لہو سے یہ کہ خود قلم بھی ہو جائے ان کے غلام، عمرؓ

چراغِ مدینہ

نعتِ رسول ﷺ نعتِ رسول ﷺ مدینے کی گلیوں کا جلوہ عجب ہے، وہاں ہر نظر کا نظارہ عجب ہے، جہاں مصطفیٰ ﷺ کا ہو ذکرِ کریم، فضاؤں میں رحمت کی ہوا عجب ہے قلم جب اٹھے نامِ سرکار لکھنے تو الفاظ بن جائیں گلزار جیسے محمد ﷺ کی مدحت ہو جس کی زباں پر وہی شخص ہے لائقِ اشعار لکھنے۔ نبی ﷺ کی محبت ہے سرمایہ میرا یہی نور ہے، یہی آسرا میرا محمد ﷺ کا ذکر ہے ہر دل کی چاہت انہی کی عطا ہے سہارا میرا۔ ارقمؔ کی صدا بس ہے اتنی خدا سے مدینہ دکھا دے، کرم اپنی عطا سے درِ پاک پر آنکھ نم ہو مری بھی نصیبوں کو نواز دے نبیؐ کی دعا سے۔