Posts

فاروقِ اعظمؓ: پیکرِ عدل

Image
مدحِ عمرؓ مدحِ عمرؓ جہانِ عدل میں گونجتا ہے ان کا نام، عمرؓ چراغِ حق سے منوّر ہے ہر کام، عمرؓ نبی کے بعد جو امت کا نگہبان بنا وہی تو دین کا مینارِ استحکام، عمرؓ نہ تخت مانگا، نہ زر کا ہوا غلام کبھی دلِ فقیر میں چھُپا بادشاہِ اسلام، عمرؓ نمازِ فجر میں آنسو، خشیتِ ربّ عیاں زمین لرزتی تھی جن سے، وہی امام، عمرؓ جہادِ نفس میں فاتح، جلال میں بے مثال قلم لرزتا ہے لکھنے پہ اُن کے نام، عمرؓ رعیتوں کے لیے شب بیداریوں میں رہے چراغِ عدل کے روشن وہی پیام، عمرؓ جلال ایسا کہ لرزتا تھا باطل تمام خدا کے نور سے قائم ہے وہ نظام، عمرؓ دیا وہ عدل کا دستور، ہو گیا دائم جو بن گیا ہے ابد تک نظامِ عام، عمرؓ نبی کا عشق دلوں میں وہ بانٹ جاتے تھے وہی پیامِ وفا، وہی دوام، عمرؓ جہانِ عشق میں کردار کی کتاب وہی ہر اک ورق پہ چمکتا ہے ان کا نام، عمرؓ اَرقم نے مدح لکھی دل کے لہو سے یہ کہ خود قلم بھی ہو جائے ان کے غلام، عمرؓ

چراغِ مدینہ

نعتِ رسول ﷺ نعتِ رسول ﷺ مدینے کی گلیوں کا جلوہ عجب ہے، وہاں ہر نظر کا نظارہ عجب ہے، جہاں مصطفیٰ ﷺ کا ہو ذکرِ کریم، فضاؤں میں رحمت کی ہوا عجب ہے قلم جب اٹھے نامِ سرکار لکھنے تو الفاظ بن جائیں گلزار جیسے محمد ﷺ کی مدحت ہو جس کی زباں پر وہی شخص ہے لائقِ اشعار لکھنے۔ نبی ﷺ کی محبت ہے سرمایہ میرا یہی نور ہے، یہی آسرا میرا محمد ﷺ کا ذکر ہے ہر دل کی چاہت انہی کی عطا ہے سہارا میرا۔ ارقمؔ کی صدا بس ہے اتنی خدا سے مدینہ دکھا دے، کرم اپنی عطا سے درِ پاک پر آنکھ نم ہو مری بھی نصیبوں کو نواز دے نبیؐ کی دعا سے۔

دل میں ٹھہری صدا

Image
  سمندر چُپ ہے مگر دل کی صدا باقی ہے لوٹ کر خود میں ہی آ جانا دوا باقی ہے ریگِ ساحل پہ جو نقشِ قدم رکھ آئے تھے وہ تو مٹ جائے مگر یادِ وفا باقی ہے ڈوبتا سورج مجھے کہہ گیا، خاموش رہو ہر نئی صبح کے پیچھے بھی ضِیا باقی ہے دل کی تنہائی میں اک روشنی ٹھہری ہوئی بے صدا ہم ہیں مگر ایک حیا باقی ہے لہروں آواز سے بڑھ کر مجھے احساس ملا میں بکھر بھی جاؤں، دل میں کوئی صدا باقی ہے وقت تھم جائے مگر رستہ نہیں رکتا کبھی جو سفر ہم نے چُنا اُس کی سزا باقی ہے زندگی ریت ہی سہی، ہاتھ میں ٹھہرتی نہیں ارقمؔ پھر بھی اُمید کی پلک پر اِک دعا باقی ہے

محبت کی وہ کمی جو کبھی پوری نہیں ہوتی”

Image
  تم نہیں ہو، مگر ہر گھڑی تمہاری ہے میرے ہر لمحے میں خاموشی تمہاری ہے نہ کوئی چہرہ، نہ لمس، نہ بات باقی ہے مگر جو رہ گئی ہے، وہ کمی تمہاری ہے میں جاگتا ہوں تری نیند بن کے راتوں میں یہ جو بھی آنکھ ہے، روشنی تمہاری ہے کبھی ہوا میں، کبھی خواب میں، کبھی آنسو میں میری ہر سانس میں زندگی تمہاری ہے نہ میں نے مانگا تجھے، نہ تُو نے پایا مجھے بس ایک ضد سی دل میں بسی تمہاری ہے تمہیں بھلا بھی دوں، تو کسے سناؤں پھر؟ یہ جو بھی چپ ہے، وہ سُنی تمہاری ہے یہ جو بکھر کے بھی میں، مکمل لگتا ہوں یقین مانو، یہ بندگی تمہاری ہے > “کچھ کہانیاں ہم لکھتے ہیں، کچھ ہمارے لیے لکھی جاتی ہیں… آپ نے وقت نکالا، یہ میرے لیے کافی ہے۔” > “جس دل نے یہ پڑھا، وہ یقیناً کبھی کسی کے انتظار میں بولا ہوگا— آپ کے لیے دعا۔ 🌹” > “کچھ کہانیاں ہم لکھتے ہیں، کچھ ہمارے لیے لکھی جاتی ہیں… آپ نے وقت نکالا، یہ میرے لیے کافی ہے۔” > “اگر کبھی دل نے کسی کمی کو لفظوں میں محسوس کیا ہو، تو جانئے… محبت وہیں کہیں قریب ہوتی ہے۔ شکریہ کہ آپ نے ان احساسات کو اپنی نگاہوں سے دیکھا۔ 🌙✨”

ہجر کی عبادت

Image
  محبتوں نے مجھے مجھ سے ہی جدا کر دیا خودی کا چہرہ مری یاد سے آشنا کر دیا وہ جس کے ہجر نے سانسوں کو دعا کر دیا اسی کے نام نے دل کو تماشا کر دیا نظر میں اب بھی وہی ہنسی جھلک رہی ہے مگر اسی تبسّم نے آنکھوں کو گریہ سرا کر دیا محبتیں تو عبادت تھیں ابتدا میں مگر فراق نے اسے پھر رسمِ جفا کر دیا میں آئنے میں بھی خود کو نہ پہچان سکا کسی کی یاد نے ہر عکس کو دھواں کر دیا یہ درد کم نہ ہوا وقت کے سفر کے ساتھ مزید گہرا ہوا، درد نے وفا کر دیا فنا تو عشق کا آسان مرحلہ تھا ارقمؔ مجھے تو زیست نے ہر روز مبتلا کر دیا یہ غزل پڑھنے والے ناظرین کے لیے ایک خوبصورت پیغام: "محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر وہ دل کو وہی سکھاتی ہے جو کوئی اور نہیں سکھا سکتا—خود کو پہچاننا، جدائی کو قبول کرنا، اور درد میں بھی وفا کا راستہ ڈھونڈ لینا۔ اگر آپ کبھی بکھر جائیں، یاد رکھیں: بکھرنے کے بعد ہی انسان اپنے اصل میں ڈھلتا ہے۔"

دل کے راز اور خاموش آنسو" درد بھری غزل

Image

غزل

غزل 🌿 غزل 🌿 کچھ درد کہوں تو کمتر ہوتا ہے خاموش رہوں تو بہتر ہوتا ہے لفظوں میں دکھ رنگ بدل لیتا ہے دل میں رہے تو گہرا تر ہوتا ہے ہر بات سبھی سے کہنا کیسا؟ ہر شخص کہاں معتبر ہوتا ہے وہ شخص اگر دل کو نہ سمجھے کہنے سے بھی کیا اثر ہوتا ہے؟ اک شہرِ نظر، اک خلوتِ دل— بس ایک ہی در کھولیں بہتر ہوتا ہے ہم زخم اگر دنیا کو دکھائیں کیا زخم کبھی بے اثر ہوتا ہے؟ خاموش رہو… خود سے بات کرو ارقمؔ کچھ درد یوں بھی بہتر ہوتا ہے