Thursday, July 2, 2026

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا...


دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَقَم ہی نہ ہُوا تھا۔


ہم تو اُس کی مُسکُراہٹوں کو اپنی قِسمت سَمَجھ بیٹھے، مگر وہ ہمیں اپنی زِندگی کے ایک عارِضی باب سے زیادہ اَہمِیّت نہ دے سکا۔ ہم مَحبّت کو عِبادت سَمَجھ کر جیتے رہے، اور وہ اُسے موسموں کی طرح بدلتا رہا۔


ہم نے اُس کے نام پر خوابوں کے شہر آباد کیے، اُمّیدوں کے چراغ جلائے، دُعاؤں میں اُس کا نام سجاتے رہے۔ مگر ایک دِن یہ حَقیقت بھی آشکار ہُوئی کہ جِس دروازے پر ہم عُمر بھر وَفا کی دستک دیتے رہے، وہ دروازہ ہمارے لیے کبھی کُھلا ہی نہیں تھا۔


عجیب اَلمِیہ ہے کہ جُدائی کا دُکھ بھی وَقت کے ساتھ مَدھم پڑ جاتا ہے، مگر یہ اِحساس رُوح میں ہمیشہ کے لیے پَیوَست ہو جاتا ہے کہ جِسے ہم اپنی دُنیا سَمَجھتے رہے، اُس کی دُنیا میں ہمارا وُجود کبھی شامِل ہی نہ تھا۔


اَب دِل خاموش ہے، آنکھیں بھی کوئی شِکوہ نہیں کرتیں۔ کیونکہ کچھ حَقیقتیں آنسوؤں سے نہیں، خاموشیوں میں قَبول کی جاتی ہیں، اور کچھ زَخم ایسے ہوتے ہیں جو بھر تو جاتے ہیں، مگر اُن کے نِشان عُمر بھر رُوح پر ثَبت رہتے ہیں۔


وَقت نے بس اِتنا سِکھایا ہے کہ مَحبّت مانگی نہیں جاتی، مَحسوس کی جاتی ہے۔ اور جو دِل آپ کی قَدر نہ جان سکے، اُس کی دَہلیز پر اپنی وَفا بکھیر دینا مَحبّت نہیں، اپنی ذات کے ساتھ نااِنصافی ہے۔


کچھ کہانیاں وِصال کے لیے نہیں لکھی جاتیں، بلکہ اِنسان کو یہ سِکھانے کے لیے رَقَم ہوتی ہیں کہ ہر دِل، ہر دھڑکن کی اَمانت نہیں ہوتا۔ بعض مَحبّتیں مَنزِل نہیں بنتیں، مگر اِنسان کو اپنی ذات کی قَدر ضرور سِکھا جاتی ہیں۔



وہ مجھ سے آج بھی نظریں چرا کے گزرا ہے

مرے وجود کو گویا مٹا کے گزرا ہے


میں جس کے نام کی خوشبو میں سانس لیتا تھا

وہی مرے دلِ مضطر کو جلا کے گزرا ہے


نہ کوئی حرفِ شکایت، نہ کوئی ذکرِ گلہ

وہ اپنی خامشیوں سے سزا دے گزرا ہے


میں منتظر تھا کہ اک بار مسکرا دے گا

مگر وہ چہرہ بھی مجھ سے چھپا کے گزرا ہے


میں اس کے بعد کئی رات جاگتا ہی رہا

وہ اپنی یاد کا صحرا دکھا کے گزرا ہے


سبب تو کوئی بتاتا، خطا تو سمجھاتا

وہ مجھ کو سوالوں میں الجھا کے گزرا ہے


دعا یہی ہے کہ خوش ہو وہ اپنی دنیا میں

جو میرے خواب سارے لٹا کے گزرا ہے


کبھی اگر اسے احساسِ بے وفائی ہو

وہ میری آنکھ میں آنسو سجا کے گزرا ہے


ارقمؔ ابھی بھی دل اس کی راہ تکتا ہے

وہ ایک شخص جو جینا سکھا کے گزرا ہے




Sunday, June 28, 2026

خاموشی کی زبان – دل کے ان کہے درد اور محبت کی داستان درد، تنہائی اور محبت پر ایک خوبصورت اردو غزل خاموشی، درد، محبت، غزل، اردو غزل، دل کی باتیں، تنہائی

 

خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے 



یہ کیسی خامشی ہے جو صدا معلوم ہوتی ہے
مرے اندر کوئی بچھڑی دعا معلوم ہوتی ہے

لبوں پر قفل ہیں لیکن نگاہیں بولتی ہیں اب
خموشی بھی تری دل کی صدا معلوم ہوتی ہے

کسی کے ہجر نے دل کو عجب ویران رکھا ہے
یہ بستی آج بھی اس کی صدا معلوم ہوتی ہے

میں اپنے زخم دنیا کو دکھانا بھی نہیں چاہا
مری خاموشی ہی سب کی گواہ معلوم ہوتی ہے

کئی آنسو تھے جو آنکھوں سے بہہ پائے نہیں برسوں
وہی نمی مرے چہرے کی ادا معلوم ہوتی ہے

نہ شکوہ ہے، نہ کوئی حرفِ شکایت لب پہ آتا ہے
مرے رب سے مری چپ اک دعا معلوم ہوتی ہے

وہ جس کو دل نے چاہا تھا، وہی قسمت میں نہ آیا
محبت اب مجھے اک المیہ معلوم ہوتی ہے

کبھی جو مسکرا دیتا ہوں محفل کی ضرورت پر
مری ہنسی بھی کسی غم کی ادا معلوم ہوتی ہے

بہت گہرا سمندر ہے مرے سینے کی دنیا میں
مگر لوگوں کو بس اک خامشی معلوم ہوتی ہے






بعض آوازیں سنائی نہیں دیتیں، مگر روح تک اتر جاتی ہیں۔ بعض لفظ کہے نہیں جاتے، مگر عمر بھر یاد رہتے ہیں۔ اور بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان نہیں ملتی، تب خاموشی ان کی ترجمان بن جاتی ہے۔

خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے، شاید دنیا کی سب سے سچی زبان۔ ایسی زبان جس میں نہ جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے، نہ دکھاوے کی گرد۔ یہ سیدھی دل سے نکلتی ہے اور دل تک پہنچتی ہے۔

کبھی کسی تنہا شخص کی خاموشی کو غور سے سنو۔ اس کے لب ساکت ہوں گے مگر اس کے اندر یادوں کا ایک ہجوم برپا ہوگا۔ کہیں بچھڑ جانے والوں کی صدائیں ہوں گی، کہیں ادھورے خوابوں کی آہیں، کہیں ٹوٹے ہوئے وعدوں کی بازگشت۔ وہ کچھ نہیں کہتا، مگر اس کی خاموشی ایک پوری داستان سناتی رہتی ہے۔

زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جن کے جانے کے بعد الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے بہت کچھ کہے، شکوے کرے، سوال کرے، مگر زبان ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ تب آنکھیں خاموش ہو جاتی ہیں، لب خاموش ہو جاتے ہیں، اور انسان اپنی ہی ذات کے ویران صحن میں بیٹھ کر خاموشی کی زبان بولنے لگتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ محبت کی پہلی سرگوشی بھی اکثر خاموشی میں جنم لیتی ہے اور جدائی کا آخری نوحہ بھی خاموشی ہی لکھتی ہے۔ ایک خاموش نظر کبھی اقرار بن جاتی ہے، ایک خاموش آنسو پوری قیامت کا منظر پیش کر دیتا ہے، اور ایک خاموش رخصتی عمر بھر کا دکھ بن جاتی ہے۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ سب سے زیادہ مسکرانے والے لوگ اندر سے سب سے زیادہ خاموش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے درد کو لفظوں کے بازار میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے غم کو آنکھوں کے کسی گوشے میں چھپا لیتے ہیں اور دنیا کو صرف مسکراہٹ دکھاتے ہیں۔ مگر رات کے آخری پہر ان کی خاموشی ان کے آنسوؤں کے ساتھ مل کر ایک ایسی نظم لکھتی ہے جسے صرف خدا پڑھ سکتا ہے۔

خاموشی کبھی شکست نہیں ہوتی، کبھی یہ صبر کا بلند ترین مقام بھی ہوتی ہے۔ جب انسان شکایت کرنا چھوڑ دے، گلہ کرنا بھول جائے اور اپنے دکھ کو رب کے سپرد کر دے، تو اس کی خاموشی عبادت بن جاتی ہے۔

شاید اسی لیے کچھ خاموشیاں لفظوں سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ دردناک ہوتی ہیں۔ وہ بولتی نہیں، مگر دل کے بند دریچوں پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ وہ سنائی نہیں دیتیں، مگر محسوس ضرور ہوتی ہیں۔

آخر میں بس اتنا کہ خاموشی کو کبھی کمزوری مت سمجھو۔ بعض اوقات انسان کے دل میں ایک سمندر موجزن ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک خاموش ساحل کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ ہر درد کو لفظ نہیں ملتے، اور ہر محبت کا اظہار ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ کہانیاں صرف خاموشی لکھتی ہے، اور کچھ زخم صرف خاموشی ہی پڑھ سکتی ہے۔

ارقمؔ رائٹس


Monday, June 22, 2026

کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں مگر قسمت میں نہیں ہوتے ادھوری محبت نصیب اور محبت بچھڑے ہوئے رشتے یادوں کی خوشبو دل کو چھو لینے والا مضمون | ادھوری محبت، یادیں اور نصیب کی کہانی

 کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں مگر قسمت میں نہیں ہوتے


زندگی ایک طویل سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں بے شمار چہرے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ راہِ گزر کی طرح آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، کچھ مدتوں ساتھ چلتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دل کے کسی گوشۂ خاموش میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ مگر ان سب کے درمیان کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری زندگی میں تو آتے ہیں، ہمارے خوابوں، دعاؤں اور احساسات کا حصہ بن جاتے ہیں، لیکن ہماری قسمت میں نہیں ہوتے۔


وہ لوگ بارش کی پہلی بوند کی مانند ہوتے ہیں، جو سوکھی زمین کو مہکا تو دیتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے نہیں ٹھہرتی۔ وہ چاندنی راتوں کی طرح دل میں اترتے ہیں، محبت کے معنی سکھاتے ہیں، احساس کی نئی کھڑکیاں کھولتے ہیں، اور پھر تقدیر کی کسی ان دیکھی راہ پر ہم سے دور نکل جاتے ہیں۔


کبھی فاصلے انہیں ہم سے چھین لیتے ہیں، کبھی حالات، کبھی مجبوریوں کی دیواریں، اور کبھی قسمت کی وہ سیاہی جو ہماری خواہشوں کے برخلاف لکھی جا چکی ہوتی ہے۔ انسان لاکھ چاہے کہ کچھ رشتے ہمیشہ قائم رہیں، مگر ہر چاہت کا مقدر وصال نہیں ہوتا اور ہر دعا کی قسمت قبولیت نہیں ہوتی۔


بعض لوگ ہماری زندگی میں صرف ایک خوبصورت سبق بن کر آتے ہیں۔ وہ سکھا جاتے ہیں کہ محبت صرف پا لینے کا نام نہیں، بلکہ کسی کو کھو کر بھی دل میں عزت، دعا اور محبت کے ساتھ زندہ رکھنے کا نام ہے۔ کچھ رشتے نامکمل ہو کر بھی مکمل محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی خوبصورتی ان کے انجام میں نہیں بلکہ ان کے احساس میں پوشیدہ ہوتی ہے۔


ان کی جدائی دل کو زخمی ضرور کرتی ہے، مگر یہی زخم انسان کو گہرا بھی بنا دیتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے، مگر روح میں ایک عجیب سی پختگی بھی جنم لیتی ہے۔ پھر انسان سمجھنے لگتا ہے کہ کچھ لوگ ہمارے نصیب کا حصہ نہیں ہوتے، لیکن ہماری شخصیت کا حصہ ضرور بن جاتے ہیں۔


وہ چلے جاتے ہیں، مگر ان کی باتیں، ان کی مسکراہٹ، ان کی دعائیں اور ان کی یادیں دل کے دریچوں میں چراغ بن کر جلتی رہتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، مگر کچھ نام دل کی کتاب سے کبھی مٹ نہیں پاتے۔


واقعی، کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں مگر قسمت میں نہیں ہوتے؛ وہ ہمیں مل کر بچھڑ جاتے ہیں، مگر اپنی یادوں کی خوشبو ہماری روح میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔


کچھ لوگ نصیب میں نہیں ہوتے، مگر دعا بن کر رہ جاتے ہیں؛

اور کچھ رشتے مل نہیں پاتے، مگر عمر بھر محسوس ہوتے رہتے ہیں۔


قطعہ


کچھ لوگ بچھڑ کے بھی رگوں میں اتر جاتے ہیں

یادوں کے چراغ بن کے دل میں ٹھہر جاتے ہیں


رونا تو کسی شخص کے جانے پہ نہیں آتا

رونا تو اُن خوابوں پہ آتا ہے جو مر جاتے ہیں





Friday, June 19, 2026

وہ میری قسمت میں نہیں تھا، مگر میری دعا میں رہا ✨🖤محبت، صبر اور رضا کی داستان

مجھے وہ ملا نہیں، مگر میں تقدیر پہ راضی ہوں

مجھے وہ ملا نہیں، مگر میں تقدیر پہ راضی ہوں

محبت، صبر اور تقدیر کی ایک سچی داستان

زندگی میں کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے بہت قریب ہوتی ہیں۔ ہم اُن کے لیے دعائیں کرتے ہیں، خواب سجاتے ہیں اور اپنے آنے والے کل کو اُن سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ مگر ہر خواہش ہماری تقدیر کا حصہ نہیں بنتی۔ بعض اوقات ہم جسے دل و جان سے چاہتے ہیں، وہ ہماری قسمت میں نہیں لکھا ہوتا۔

میں نے بھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جو میری آنکھوں کی روشنی بن گیا تھا۔ ایک ایسا نام جو میری دعاؤں میں شامل تھا، ایک ایسی ہستی جس کے تصور سے دل کو سکون ملتا تھا۔ میں نے چاہا کہ وہ میری زندگی کا حصہ بن جائے، مگر شاید اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔

شروع میں دل نے بہت سوال کیے۔ آخر کیوں؟ میری دعا میں کیا کمی تھی؟ میری محبت میں کیا نقص تھا؟ مگر وقت نے آہستہ آہستہ یہ سکھا دیا کہ ہر محرومی سزا نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ رحمت کا دوسرا نام بھی ہوتی ہے۔ اللہ وہ دیکھتا ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے، اور وہ جانتا ہے جو ہماری سوچ سے بھی آگے ہوتا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور مجھے احساس ہوا کہ زندگی صرف حاصل کرنے کا نام نہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں تاکہ ہمیں محبت، صبر اور اعتماد کا سبق سکھا سکیں۔ وہ ہمارے نہیں ہوتے، مگر ہمیں پہلے سے بہتر انسان بنا جاتے ہیں۔

آج بھی اُس کی یاد دل کے کسی کونے میں موجود ہے، مگر اب اُس یاد کے ساتھ شکوہ نہیں، صرف دعا ہے۔ اگر وہ میری قسمت میں نہیں تھا تو یقیناً اس میں کوئی حکمت ہوگی۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں، بلکہ خیر خواہی، احترام اور دعا کا نام بھی ہے۔

اب میں تقدیر سے لڑتا نہیں۔ جو مل گیا اُس پر شکر کرتا ہوں اور جو نہ ملا اُس پر صبر۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا رب میرے لیے وہی چنتا ہے جو میرے حق میں بہتر ہوتا ہے۔

مجھے وہ ملا نہیں، مگر میں تقدیر پہ راضی ہوں۔ کیونکہ بعض اوقات دل کی ہار، زندگی کی سب سے بڑی جیت بن جاتی ہے۔ اور بعض دعائیں قبول نہ ہو کر بھی انسان کو اُس منزل تک پہنچا دیتی ہیں جہاں اُس کے لیے حقیقی سکون لکھا ہوتا ہے۔

غزل

مجھے وہ مل نہ سکا، یہ بھی اک عطا ہی سہی
مرے نصیب میں لکھی ہوئی رضا ہی سہی
میں اُس کے نام کی خوشبو لیے پھرا برسوں
وہ میرا ہو نہ سکا، اُس کی وفا ہی سہی
ہر ایک خواب کو پلکوں پہ میں نے رکھا تھا
جو ٹوٹ کر بھی سنبھل جائے، حوصلہ ہی سہی
کئی سوال تھے دل میں، کئی گلے بھی مگر
لبوں پہ آ نہ سکے تو یہ خامشی سہی
وہ میرے ساتھ نہ چل سکا سفر بھر لیکن
مرے خیال میں جلتا ہوا دیا ہی سہی
میں اُس کو بھولنے بیٹھوں تو یاد آتا ہے
مری رگوں میں کہیں اُس کا اک اثر ہی سہی
کبھی تمنّا کے شہر آباد تھے دل میں
اب اُن کھنڈروں میں گونجتی صدا ہی سہی
نہ اُس کو پانے کی خواہش، نہ کوئی شکوہ اب
جو میرے حق میں لکھا ہے، وہ فیصلہ ہی سہی
میں اپنے درد کو سینے سے آج بھی رکھوں
یہی مرے لیے جینے کا حوصلہ ہی سہی
عجیب موڑ پہ لا کر کھڑی ہوئی ہے حیات
جو مل نہ سکا، وہ اک خوب صورت دعا ہی سہی
ؔارقم اُس ایک محبت کا قرض باقی ہے
وہ میرا ہو نہ سکا، اُس کی دعا ہی سہی
— Heart's Ink ✍️🖤

Tuesday, April 14, 2026

فاروقِ اعظمؓ: پیکرِ عدل

مدحِ عمرؓ

مدحِ عمرؓ

جہانِ عدل میں گونجتا ہے ان کا نام، عمرؓ
چراغِ حق سے منوّر ہے ہر کام، عمرؓ
نبی کے بعد جو امت کا نگہبان بنا
وہی تو دین کا مینارِ استحکام، عمرؓ
نہ تخت مانگا، نہ زر کا ہوا غلام کبھی
دلِ فقیر میں چھُپا بادشاہِ اسلام، عمرؓ
نمازِ فجر میں آنسو، خشیتِ ربّ عیاں
زمین لرزتی تھی جن سے، وہی امام، عمرؓ
جہادِ نفس میں فاتح، جلال میں بے مثال
قلم لرزتا ہے لکھنے پہ اُن کے نام، عمرؓ
رعیتوں کے لیے شب بیداریوں میں رہے
چراغِ عدل کے روشن وہی پیام، عمرؓ
جلال ایسا کہ لرزتا تھا باطل تمام
خدا کے نور سے قائم ہے وہ نظام، عمرؓ
دیا وہ عدل کا دستور، ہو گیا دائم
جو بن گیا ہے ابد تک نظامِ عام، عمرؓ
نبی کا عشق دلوں میں وہ بانٹ جاتے تھے
وہی پیامِ وفا، وہی دوام، عمرؓ
جہانِ عشق میں کردار کی کتاب وہی
ہر اک ورق پہ چمکتا ہے ان کا نام، عمرؓ
اَرقم نے مدح لکھی دل کے لہو سے یہ
کہ خود قلم بھی ہو جائے ان کے غلام، عمرؓ

Sunday, April 12, 2026

چراغِ مدینہ


نعتِ رسول ﷺ

نعتِ رسول ﷺ

مدینے کی گلیوں کا جلوہ عجب ہے،
وہاں ہر نظر کا نظارہ عجب ہے،
جہاں مصطفیٰ ﷺ کا ہو ذکرِ کریم،
فضاؤں میں رحمت کی ہوا عجب ہے

قلم جب اٹھے نامِ سرکار لکھنے
تو الفاظ بن جائیں گلزار جیسے
محمد ﷺ کی مدحت ہو جس کی زباں پر
وہی شخص ہے لائقِ اشعار لکھنے۔

نبی ﷺ کی محبت ہے سرمایہ میرا
یہی نور ہے، یہی آسرا میرا
محمد ﷺ کا ذکر ہے ہر دل کی چاہت
انہی کی عطا ہے سہارا میرا۔

ارقمؔ کی صدا بس ہے اتنی خدا سے
مدینہ دکھا دے، کرم اپنی عطا سے
درِ پاک پر آنکھ نم ہو مری بھی
نصیبوں کو نواز دے نبیؐ کی دعا سے۔

Wednesday, December 17, 2025

دل میں ٹھہری صدا


 

سمندر چُپ ہے مگر دل کی صدا باقی ہے

لوٹ کر خود میں ہی آ جانا دوا باقی ہے


ریگِ ساحل پہ جو نقشِ قدم رکھ آئے تھے

وہ تو مٹ جائے مگر یادِ وفا باقی ہے


ڈوبتا سورج مجھے کہہ گیا، خاموش رہو

ہر نئی صبح کے پیچھے بھی ضِیا باقی ہے


دل کی تنہائی میں اک روشنی ٹھہری ہوئی

بے صدا ہم ہیں مگر ایک حیا باقی ہے


لہروں آواز سے بڑھ کر مجھے احساس ملا

میں بکھر بھی جاؤں، دل میں کوئی صدا باقی ہے


وقت تھم جائے مگر رستہ نہیں رکتا کبھی

جو سفر ہم نے چُنا اُس کی سزا باقی ہے


زندگی ریت ہی سہی، ہاتھ میں ٹھہرتی نہیں ارقمؔ

پھر بھی اُمید کی پلک پر اِک دعا باقی ہے




Tuesday, December 2, 2025

محبت کی وہ کمی جو کبھی پوری نہیں ہوتی”

 

تم نہیں ہو، مگر ہر گھڑی تمہاری ہے

میرے ہر لمحے میں خاموشی تمہاری ہے


نہ کوئی چہرہ، نہ لمس، نہ بات باقی ہے

مگر جو رہ گئی ہے، وہ کمی تمہاری ہے


میں جاگتا ہوں تری نیند بن کے راتوں میں

یہ جو بھی آنکھ ہے، روشنی تمہاری ہے


کبھی ہوا میں، کبھی خواب میں، کبھی آنسو میں

میری ہر سانس میں زندگی تمہاری ہے


نہ میں نے مانگا تجھے، نہ تُو نے پایا مجھے

بس ایک ضد سی دل میں بسی تمہاری ہے


تمہیں بھلا بھی دوں، تو کسے سناؤں پھر؟

یہ جو بھی چپ ہے، وہ سُنی تمہاری ہے


یہ جو بکھر کے بھی میں، مکمل لگتا ہوں

یقین مانو، یہ بندگی تمہاری ہے


> “کچھ کہانیاں ہم لکھتے ہیں، کچھ ہمارے لیے لکھی جاتی ہیں… آپ نے وقت نکالا، یہ میرے لیے کافی ہے۔”




> “جس دل نے یہ پڑھا، وہ یقیناً کبھی کسی کے انتظار میں بولا ہوگا— آپ کے لیے دعا۔ 🌹”


> “کچھ کہانیاں ہم لکھتے ہیں، کچھ ہمارے لیے لکھی جاتی ہیں… آپ نے وقت نکالا، یہ میرے لیے کافی ہے۔”


> “اگر کبھی دل نے کسی کمی کو لفظوں میں محسوس کیا ہو، تو جانئے… محبت وہیں کہیں قریب ہوتی ہے۔ شکریہ کہ آپ نے ان احساسات کو اپنی نگاہوں سے دیکھا۔ 🌙✨”



Sunday, November 30, 2025

ہجر کی عبادت

 


محبتوں نے مجھے مجھ سے ہی جدا کر دیا

خودی کا چہرہ مری یاد سے آشنا کر دیا


وہ جس کے ہجر نے سانسوں کو دعا کر دیا

اسی کے نام نے دل کو تماشا کر دیا


نظر میں اب بھی وہی ہنسی جھلک رہی ہے مگر

اسی تبسّم نے آنکھوں کو گریہ سرا کر دیا


محبتیں تو عبادت تھیں ابتدا میں مگر

فراق نے اسے پھر رسمِ جفا کر دیا


میں آئنے میں بھی خود کو نہ پہچان سکا

کسی کی یاد نے ہر عکس کو دھواں کر دیا


یہ درد کم نہ ہوا وقت کے سفر کے ساتھ

مزید گہرا ہوا، درد نے وفا کر دیا


فنا تو عشق کا آسان مرحلہ تھا ارقمؔ

مجھے تو زیست نے ہر روز مبتلا کر دیا




یہ غزل پڑھنے والے ناظرین کے لیے ایک خوبصورت پیغام:


"محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر وہ دل کو وہی سکھاتی ہے جو کوئی اور نہیں سکھا سکتا—خود کو پہچاننا، جدائی کو قبول کرنا، اور درد میں بھی وفا کا راستہ ڈھونڈ لینا۔ اگر آپ کبھی بکھر جائیں، یاد رکھیں: بکھرنے کے بعد ہی انسان اپنے اصل میں ڈھلتا ہے۔"



Thursday, November 27, 2025

دل کے راز اور خاموش آنسو" درد بھری غزل

غزل

غزل

🌿 غزل 🌿

کچھ درد کہوں تو کمتر ہوتا ہے
خاموش رہوں تو بہتر ہوتا ہے

لفظوں میں دکھ رنگ بدل لیتا ہے
دل میں رہے تو گہرا تر ہوتا ہے

ہر بات سبھی سے کہنا کیسا؟
ہر شخص کہاں معتبر ہوتا ہے

وہ شخص اگر دل کو نہ سمجھے
کہنے سے بھی کیا اثر ہوتا ہے؟

اک شہرِ نظر، اک خلوتِ دل—
بس ایک ہی در کھولیں بہتر ہوتا ہے

ہم زخم اگر دنیا کو دکھائیں
کیا زخم کبھی بے اثر ہوتا ہے؟

خاموش رہو… خود سے بات کرو
ارقمؔ کچھ درد یوں بھی بہتر ہوتا ہے

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...