Sunday, November 30, 2025

ہجر کی عبادت

 


محبتوں نے مجھے مجھ سے ہی جدا کر دیا

خودی کا چہرہ مری یاد سے آشنا کر دیا


وہ جس کے ہجر نے سانسوں کو دعا کر دیا

اسی کے نام نے دل کو تماشا کر دیا


نظر میں اب بھی وہی ہنسی جھلک رہی ہے مگر

اسی تبسّم نے آنکھوں کو گریہ سرا کر دیا


محبتیں تو عبادت تھیں ابتدا میں مگر

فراق نے اسے پھر رسمِ جفا کر دیا


میں آئنے میں بھی خود کو نہ پہچان سکا

کسی کی یاد نے ہر عکس کو دھواں کر دیا


یہ درد کم نہ ہوا وقت کے سفر کے ساتھ

مزید گہرا ہوا، درد نے وفا کر دیا


فنا تو عشق کا آسان مرحلہ تھا ارقمؔ

مجھے تو زیست نے ہر روز مبتلا کر دیا




یہ غزل پڑھنے والے ناظرین کے لیے ایک خوبصورت پیغام:


"محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر وہ دل کو وہی سکھاتی ہے جو کوئی اور نہیں سکھا سکتا—خود کو پہچاننا، جدائی کو قبول کرنا، اور درد میں بھی وفا کا راستہ ڈھونڈ لینا۔ اگر آپ کبھی بکھر جائیں، یاد رکھیں: بکھرنے کے بعد ہی انسان اپنے اصل میں ڈھلتا ہے۔"



No comments:

Post a Comment

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...