ہجر کی عبادت
محبتوں نے مجھے مجھ سے ہی جدا کر دیا
خودی کا چہرہ مری یاد سے آشنا کر دیا
وہ جس کے ہجر نے سانسوں کو دعا کر دیا
اسی کے نام نے دل کو تماشا کر دیا
نظر میں اب بھی وہی ہنسی جھلک رہی ہے مگر
اسی تبسّم نے آنکھوں کو گریہ سرا کر دیا
محبتیں تو عبادت تھیں ابتدا میں مگر
فراق نے اسے پھر رسمِ جفا کر دیا
میں آئنے میں بھی خود کو نہ پہچان سکا
کسی کی یاد نے ہر عکس کو دھواں کر دیا
یہ درد کم نہ ہوا وقت کے سفر کے ساتھ
مزید گہرا ہوا، درد نے وفا کر دیا
فنا تو عشق کا آسان مرحلہ تھا ارقمؔ
مجھے تو زیست نے ہر روز مبتلا کر دیا
یہ غزل پڑھنے والے ناظرین کے لیے ایک خوبصورت پیغام:
"محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر وہ دل کو وہی سکھاتی ہے جو کوئی اور نہیں سکھا سکتا—خود کو پہچاننا، جدائی کو قبول کرنا، اور درد میں بھی وفا کا راستہ ڈھونڈ لینا۔ اگر آپ کبھی بکھر جائیں، یاد رکھیں: بکھرنے کے بعد ہی انسان اپنے اصل میں ڈھلتا ہے۔"
_2.png)
Comments
Post a Comment