دل کے راز اور خاموش آنسو" درد بھری غزل
چلے تھے لوگ مرے ساتھ ہمسفر ہو کر
مگر بدل گئے سب، کتنے تنگنظر ہو کر
میں اپنے داغ بھی ہنس کر چھپا لیا کرتا
وہ میرے حال سے کترائے بےاثر ہو کر
میں نیتوں کی ضیا لے کے چل پڑا تھا مگر
وہ مجھ کو جان نہ پائے مرا دربدر ہو کر
عجب فسانۂ دل ہے کہ ہر قدم مجھ کو
ملے ہیں زخم ہی، دنیا کے ہمسفر ہو کر
خطا یہی تھی مری—دل تھا نرم و نازک بہت
یہی گناہ ٹھہرا آخر میں آشکار ہو کر
وہی جو راہِ وفا میں اٹھاتے تھے سنگِ طعن
اُنھی پہ چھا گیا آخر میں بےاثر ہو کر
مجھے یقین ہے، نیکی ملی ہے لوٹ کے یوں
کسی دعا، کسی آنسو کے ہمسفر ہو کر
تو اے ارقمؔ! نرم ہی رہنا، یہی تری رمز ہے
یہی چراغ رہے روشن، تری نظر ہو کر
یہ غزل اُن احساسات کا بیان ہے جو انسان تب محسوس کرتا ہے جب ہمسفر بدل جاتے ہیں، اور سچّی نیتیں زمانے کی نظروں میں بےمعنی ہو جاتی ہیں۔ اس میں دل کی نرمی، رشتوں کی حقیقت اور وقت کی آزمائش کا رنگ شامل ہے۔

Comments
Post a Comment