Thursday, July 2, 2026

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا...


دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَقَم ہی نہ ہُوا تھا۔


ہم تو اُس کی مُسکُراہٹوں کو اپنی قِسمت سَمَجھ بیٹھے، مگر وہ ہمیں اپنی زِندگی کے ایک عارِضی باب سے زیادہ اَہمِیّت نہ دے سکا۔ ہم مَحبّت کو عِبادت سَمَجھ کر جیتے رہے، اور وہ اُسے موسموں کی طرح بدلتا رہا۔


ہم نے اُس کے نام پر خوابوں کے شہر آباد کیے، اُمّیدوں کے چراغ جلائے، دُعاؤں میں اُس کا نام سجاتے رہے۔ مگر ایک دِن یہ حَقیقت بھی آشکار ہُوئی کہ جِس دروازے پر ہم عُمر بھر وَفا کی دستک دیتے رہے، وہ دروازہ ہمارے لیے کبھی کُھلا ہی نہیں تھا۔


عجیب اَلمِیہ ہے کہ جُدائی کا دُکھ بھی وَقت کے ساتھ مَدھم پڑ جاتا ہے، مگر یہ اِحساس رُوح میں ہمیشہ کے لیے پَیوَست ہو جاتا ہے کہ جِسے ہم اپنی دُنیا سَمَجھتے رہے، اُس کی دُنیا میں ہمارا وُجود کبھی شامِل ہی نہ تھا۔


اَب دِل خاموش ہے، آنکھیں بھی کوئی شِکوہ نہیں کرتیں۔ کیونکہ کچھ حَقیقتیں آنسوؤں سے نہیں، خاموشیوں میں قَبول کی جاتی ہیں، اور کچھ زَخم ایسے ہوتے ہیں جو بھر تو جاتے ہیں، مگر اُن کے نِشان عُمر بھر رُوح پر ثَبت رہتے ہیں۔


وَقت نے بس اِتنا سِکھایا ہے کہ مَحبّت مانگی نہیں جاتی، مَحسوس کی جاتی ہے۔ اور جو دِل آپ کی قَدر نہ جان سکے، اُس کی دَہلیز پر اپنی وَفا بکھیر دینا مَحبّت نہیں، اپنی ذات کے ساتھ نااِنصافی ہے۔


کچھ کہانیاں وِصال کے لیے نہیں لکھی جاتیں، بلکہ اِنسان کو یہ سِکھانے کے لیے رَقَم ہوتی ہیں کہ ہر دِل، ہر دھڑکن کی اَمانت نہیں ہوتا۔ بعض مَحبّتیں مَنزِل نہیں بنتیں، مگر اِنسان کو اپنی ذات کی قَدر ضرور سِکھا جاتی ہیں۔



وہ مجھ سے آج بھی نظریں چرا کے گزرا ہے

مرے وجود کو گویا مٹا کے گزرا ہے


میں جس کے نام کی خوشبو میں سانس لیتا تھا

وہی مرے دلِ مضطر کو جلا کے گزرا ہے


نہ کوئی حرفِ شکایت، نہ کوئی ذکرِ گلہ

وہ اپنی خامشیوں سے سزا دے گزرا ہے


میں منتظر تھا کہ اک بار مسکرا دے گا

مگر وہ چہرہ بھی مجھ سے چھپا کے گزرا ہے


میں اس کے بعد کئی رات جاگتا ہی رہا

وہ اپنی یاد کا صحرا دکھا کے گزرا ہے


سبب تو کوئی بتاتا، خطا تو سمجھاتا

وہ مجھ کو سوالوں میں الجھا کے گزرا ہے


دعا یہی ہے کہ خوش ہو وہ اپنی دنیا میں

جو میرے خواب سارے لٹا کے گزرا ہے


کبھی اگر اسے احساسِ بے وفائی ہو

وہ میری آنکھ میں آنسو سجا کے گزرا ہے


ارقمؔ ابھی بھی دل اس کی راہ تکتا ہے

وہ ایک شخص جو جینا سکھا کے گزرا ہے




جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...