Posts

Showing posts from November, 2025

ہجر کی عبادت

Image
  محبتوں نے مجھے مجھ سے ہی جدا کر دیا خودی کا چہرہ مری یاد سے آشنا کر دیا وہ جس کے ہجر نے سانسوں کو دعا کر دیا اسی کے نام نے دل کو تماشا کر دیا نظر میں اب بھی وہی ہنسی جھلک رہی ہے مگر اسی تبسّم نے آنکھوں کو گریہ سرا کر دیا محبتیں تو عبادت تھیں ابتدا میں مگر فراق نے اسے پھر رسمِ جفا کر دیا میں آئنے میں بھی خود کو نہ پہچان سکا کسی کی یاد نے ہر عکس کو دھواں کر دیا یہ درد کم نہ ہوا وقت کے سفر کے ساتھ مزید گہرا ہوا، درد نے وفا کر دیا فنا تو عشق کا آسان مرحلہ تھا ارقمؔ مجھے تو زیست نے ہر روز مبتلا کر دیا یہ غزل پڑھنے والے ناظرین کے لیے ایک خوبصورت پیغام: "محبت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر وہ دل کو وہی سکھاتی ہے جو کوئی اور نہیں سکھا سکتا—خود کو پہچاننا، جدائی کو قبول کرنا، اور درد میں بھی وفا کا راستہ ڈھونڈ لینا۔ اگر آپ کبھی بکھر جائیں، یاد رکھیں: بکھرنے کے بعد ہی انسان اپنے اصل میں ڈھلتا ہے۔"

دل کے راز اور خاموش آنسو" درد بھری غزل

Image

غزل

غزل 🌿 غزل 🌿 کچھ درد کہوں تو کمتر ہوتا ہے خاموش رہوں تو بہتر ہوتا ہے لفظوں میں دکھ رنگ بدل لیتا ہے دل میں رہے تو گہرا تر ہوتا ہے ہر بات سبھی سے کہنا کیسا؟ ہر شخص کہاں معتبر ہوتا ہے وہ شخص اگر دل کو نہ سمجھے کہنے سے بھی کیا اثر ہوتا ہے؟ اک شہرِ نظر، اک خلوتِ دل— بس ایک ہی در کھولیں بہتر ہوتا ہے ہم زخم اگر دنیا کو دکھائیں کیا زخم کبھی بے اثر ہوتا ہے؟ خاموش رہو… خود سے بات کرو ارقمؔ کچھ درد یوں بھی بہتر ہوتا ہے

دل کے موسمِ وصال کی سرگوشیاں صرف تیرا انتظار❤️🌹❤️🌹

Image
  Poem — Urdu & English Po Poem — Urdu & English Both versions placed side-by-side. Copy, print or save the file as-is. Copy All Text Urdu — اردو وہ جو دل میں مکیں ہے، اُسی کا آج خیال آیا مرے اشکوں میں جیسے کوئی موسمِ وصال آیا میں اُسے سوچ کے جیتا، میں اُسے چاہ کے ٹوٹا مرے سینے میں صدیوں کے سفر پر اب ملال آیا وہی جس کے تبسّم نے مری روح کو چھُوا تھا وہی خوابوں کی راہوں میں سرِ شام پھر سے حال آیا مرے ہجر کی راتوں میں وہی ایک چراغ کافی وہی آیا تو برسوں کے اندھیروں میں اجال آیا میں نے چاہت کے بدلے تو فقط درد ہی پایا مگر پھر بھی اُسی در پر مجھے بارہا خیال آیا اگر وہ مل گیا مجھ کو تو کیا اور چاہیے اب میری تقدیر کے صفحے پہ یہی حرف بے مثال آیا میں اُسی کے لیے زندہ، میں اُسی کے لیے تنہا کہ وہی دل میں بسا تھا، وہی ہر بار سوال آیا Direction: RTL — copy or save if you need the original Urdu text. English — Poetic Translat...

"خاکِ گلگت سے نسبت"

Image
  🌄 خاکِ گلگت سے نسبت (ارقمؔ) --- لب پہ ہر دم ہے دعا، دل میں وفا رکھتا ہوں خاکِ گلگت سے میں نسبت کی ادا رکھتا ہوں چاند، تاروں سے جو اونچی ہیں وہی چوٹیاں ہیں میں تو ان سب کی محبت دل میں بسا رکھتا ہوں جس جگہ راہگزر بھی ہو دعا کی صورت میں وہی بستی کا فرد ہوں جو صبر کی فضا رکھتا ہوں نانگا پربت ہو یا کے ٹو کی بلند چوٹی میں پہاڑوں میں بھی نغمۂ وفا رکھتا ہوں ست پارہ کا سکون ہو، کہ خلتی کی صدا دل میں ان جھیلوں کا اک عکسِ صفا رکھتا ہوں دیو سائی کی خاموشی میں چھپی ہے راحت میں اسی لمحے کو سینے میں چھپا رکھتا ہوں پاسبانی ہو زباں کی، ہو ثقافت کی مثال میں گلگت کی روایت کا دیا رکھتا ہوں پوچھتے ہو کہ ارقمؔ کس دیس کا فرزند ہو تم؟ میں وہ پرچم ہوں جو ہر دل میں ضیا رکھتا ہوں

نعت رسول مقبول ﷺ

Image
نعتِ سرکارؐ — HTML نعتِ سرکارِ دو جهانؐ خوبصورت انداز میں آپ کی نعت — HTML میں وہی نُور، جس سے ضیاء ملتی ہے قلبِ مومن کو وفا ملتی ہے ذکر جس کا ہے عرش والوں میں اُس کی عظمت کو دعا ملتی ہے نامِ احمدؐ ہو لبوں پر جب بھی دل کو سکون کی صدا ملتی ہے چاند شرمائے رخِ انور سے جب مدینے کی ہوا ملتی ہے کب میسر ہو درِ اقدس پر آخرت کو بھی شفا ملتی ہے جس کو نسبت ہو نبیؐ سے سچ کی اس کو منزل کی رضا ملتی ہے ہم گناہ گار سہی، پھر بھی ہمیں درِ سرکارؐ سے حیا ملتی ہے کچھ نہیں ارقمؔ کے دامن میں مگر نعتِ سرکارؐ سے جزا ملتی ہے آپ اس HTML کو محفوظ کر کے اپنے بلاگ یا ویب پیج میں لگا سکتے ہیں۔ تصاویر: Unsplash (free-to-use)

ماں کی قربانی

Image
ماں کی قربانی — غزل 🌹 ماں کی قربانی رہا ہے سایۂ شفقت، سرِ ایّام ماں جیسی نہ دیکھی میں نے دنیا میں، محبت عام ماں جیسی جو ہر آہٹ پہ جاگے، نیند اپنی وار دیتی ہو کہاں ملتی ہے الفت میں، وہ آرام ماں جیسی جسے دیکھا نہیں لیکن، دعائیں ساتھ رکھتی ہے خدا کے بعد بس رہتی ہے، وہی اِک نام ماں جیسی نہ اپنے غم سناتی ہے، نہ احساں جتا پاتی عطا کرتی ہے ہر لمحہ، وہ انعام ماں جیسی جو پیاسے ہونٹ چومے، خود سارا دن رہے پیاسی نہیں دیکھی میں نے اب تک، کوئی بھی شام ماں جیسی سلی وہ بھیگ کر لیکن، بچے کو دے حرارت وہ نہیں ملتی زمانے میں، کوئی ایثار ماں جیسی ہزاروں زخم کھا کر بھی، لبوں پر شکوہ نہ لائے نہیں آئی نظر اب تک، کوئی تسلیم ماں جیسی ...

دل کا وہ شکوہ… جو لفظوں تک نہ پہنچا

Image
@import url('https://fonts.googleapis.com/css2?family=Noto+Nastaliq+Urdu:wght@400;600&display=swap'); body { font-family: 'Noto Nastaliq Urdu', serif; background-image: url('https://images.unsplash.com/photo-1501594907352-04cda38ebc29?auto=format&fit=crop&w=1200&q=80'); background-size: cover; background-position: center; background-attachment: fixed; color: #fff; text-align: right; line-height: 2; padding: 50px 15%; backdrop-filter: brightness(0.7) blur(2px); } .container { background: rgba(0, 0, 0, 0.55); border-radius: 20px; padding: 30px 40px; box-shadow: 0 0 25px rgba(255, 255, 255, 0.15); } h1 { text-align: center; font-weight: 600; margin-bottom: 30px; font-size: 2em; color: #e8f3ff; } p { font-size: 1.2em; margin: 12px 0; } ...

🌿 "لفظوں کے پیچھے کا درد" 🌿 🌿 "शब्दों के पीछे का दर्द" 🌿

Image
لفظوں کے پیچھے کا درد 🌿 لفظوں کے پیچھے کا درد 🌿 کبھی کبھی انسان ایک ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوتا ہے جہاں لفظ معمولی نہیں رہتے، لہجے عام نہیں لگتے، اور چھوٹی چھوٹی باتیں بھی سینے کے کسی نرم حصے میں تیر کی طرح اتر جاتی ہیں۔ یہ کمزوری نہیں ہوتی— یہ دل کی تھکن ہوتی ہے، بہت دنوں کی، بہت گہری، بہت خاموش۔ جب دل اندر ہی اندر ٹوٹنے لگے، جب دکھ تہہ در تہہ جمع ہو جائیں، جب زندگی روز ایک ہی زخم کو دوبارہ چُھو لے— تو پھر ہر بات سیدھی دل پر لگتی ہے۔ چاہے وہ لفظ ہلکا ہو، یا بات بہت چھوٹی۔ اور آنکھیں… وہ بے چاری آنکھیں، جو دل کی واحد زبان ہیں، اچانک بھیگ جاتی ہیں— یوں جیسے صبر کی آخری لکیر ہوا کے ہلکے سے لمس پر ٹوٹ گئی ہو۔ 🌿 शब्दों के पीछे का दर्द 🌿 कभी-कभी इंसान एक ऐसे मोड़ पर आ खड़ा होता है जहाँ शब्द मामूली नहीं रहते, लहजे आम नहीं लगते, और छोटी-सी बात भी सीने के किसी नर्म हिस्से में तीर की तरह उतर जाती है। यह कमजोरी नहीं होती— यह दिल की थकान होती है, ...

🌙 — "دل کے خاموش گوشے میں"

Image
دل کے خاموش گوشے میں 🌙 — دل کے خاموش گوشے میں دل کے اندر ایک ایسا کونا ہوتا ہے جہاں روشنی بھی دبے قدموں آتی ہے، کہیں شور نہ ہو جائے، کہیں کوئی درد جاگ نہ اٹھے۔ آج میں اسی گوشے میں بیٹھا ہوں… اپنا ہاتھ اپنے ہی سینے پر رکھ کر دیکھ رہا ہوں کہ دھڑکنیں کیسے ٹوٹے ہوئے لفظوں کی طرح بے ترتیب ہو گئی ہیں۔ میں نے مسکراہٹ کو چہرے پر رکھا ضرور تھا— بالکل ویسے جیسے برفانی رات میں کوئی ٹمٹماتا ہوا دیا رکھ دیا جائے— مگر اس کی روشنی میرے اندر تک نہیں پہنچ سکی۔ اندر تو بس وہی کہانی تھی جو ہر روز نئے سرے سے لکھی جاتی ہے: ادھوری خواہشوں کی، رتی رتی بکھرتے یقین کی، اور ان خاموش چیخوں کی جو کبھی زبان تک نہیں آتیں۔ میں سوچتا ہوں… اگر دل ٹوٹ کر بکھرتا ہے تو کیا زمین بھی اس کے ٹکڑے سنبھال لیتی ہے؟ یا پھر یہ ٹکڑے ہوا میں گھل کر انسان کی سانسوں میں واپس اُلجھ جاتے ہیں؟ زندگی عجب ہے— یہ پہلے توڑتی ہے، پھر وہیں ہاتھ رکھ کر مرہم ہونے کا ڈراما کرتی ہے۔ اور ہم… ہ...

"ہر لمحہ کرم کا سہارا – حمد باری تعالیٰ"

Image
ہر لمحہ کرم کا سہارا – حمد باری تعالیٰ ہر لمحہ کرم کا سہارا – حمد باری تعالیٰ بِسمﷲالرحمٰن الرحیم٭ وہی مالک، وہی خالق، وہی سب کا سہارا ہے ازل سے ہے، ابد تک ہے، وہی سب پر دِیَا را ہے نہ اس جیسا کوئی دیکھا، نہ ہو پائے گا ہرگز وہی تو رب ہے جو ہر دل میں جلائے اِک ستارا ہے وہی خاموشیوں میں بھی صدا کو خوب پہچانے جو دل کی دھڑکنوں سے بھی زیادہ آشنا را ہے ہر اک ذرّہ، ہر اک قطرہ، اُسی کا عکس رکھتا ہے وہی ہے نور کی منزل، وہی دل کا اجالا ہے توبہ کی سمت جو جائے، وہ بخشش میں نہاں پائے ندامت اشک لے آئے، تو وہ رحمت کا دھارا ہے جو بندہ بن کے آئے پاس اُس کے بے رِیا ہو کر تو پھر ہر پل کرم اُس کا، ہر اِک لمحہ سہارا ہے

Siahi-e-Dil: دل کی سیاہی میں جذبات کے نقوش

Image
Siahi-e-Dil: دل کی سیاہی میں جذبات کے نقوش Siahi-e-Dil کبھی سوچا ہے کہ ہر دھڑکن، ہر خاموشی، ایک چھوٹا سا شعر ہے؟ Siahi-e-Dil میں ہم وہ لمحے، وہ احساسات اور وہ الفاظ بانٹیں گے، جو دل کی گہرائیوں سے بہتے ہیں مگر زبان تک پہنچنے میں وقت لیتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر دل اپنی خاموش کہانی سنوا سکتا ہے۔ چاہے یہ غم کی آہ ہو، چاہت کی سرسراہٹ ہو، یادوں کی مٹھاس یا خوشی کی مسکان – ہر لفظ یہاں اپنی منزل پا لیتا ہے۔ یہاں ہر لفظ کا وزن، ہر لمحے کی چپ، ہر احساس کی گہرائی اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ Siahi-e-Dil میں ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی سیاہی میں اپنے جذبات کے نقوش چھوڑیں، اپنے دل کی بات کریں، اپنی محبتوں، اپنی تنہائیوں اور اپنے خوابوں کو یہاں پروان چڑھائیں۔ کیونکہ دل کی ہر سیاہی، ہر لمس، ہر لمحہ ایک داستان کہتا ہے، اور ہر داستان سننے کے قابل ہوتی ہے۔ آئیں، دل کی سیاہی میں ا...