Thursday, November 20, 2025

ماں کی قربانی

ماں کی قربانی — غزل
🌹

ماں کی قربانی

رہا ہے سایۂ شفقت، سرِ ایّام ماں جیسی
نہ دیکھی میں نے دنیا میں، محبت عام ماں جیسی
جو ہر آہٹ پہ جاگے، نیند اپنی وار دیتی ہو
کہاں ملتی ہے الفت میں، وہ آرام ماں جیسی
جسے دیکھا نہیں لیکن، دعائیں ساتھ رکھتی ہے
خدا کے بعد بس رہتی ہے، وہی اِک نام ماں جیسی
نہ اپنے غم سناتی ہے، نہ احساں جتا پاتی
عطا کرتی ہے ہر لمحہ، وہ انعام ماں جیسی
جو پیاسے ہونٹ چومے، خود سارا دن رہے پیاسی
نہیں دیکھی میں نے اب تک، کوئی بھی شام ماں جیسی
سلی وہ بھیگ کر لیکن، بچے کو دے حرارت وہ
نہیں ملتی زمانے میں، کوئی ایثار ماں جیسی
ہزاروں زخم کھا کر بھی، لبوں پر شکوہ نہ لائے
نہیں آئی نظر اب تک، کوئی تسلیم ماں جیسی
نہ اشکوں کی شکایت ہے، نہ آنکھوں میں تمنّا ہے
عجب سا راز رکھتی ہے، وہ ہستی خامشی جیسی
یہ تحریر ہے ارقم کی، شعورِ دل کی گہرائی
کہیں بھی ڈھونڈ لو، ملتی نہیں ہے ماں ماں جیسی
— تحریر: ارقم

No comments:

Post a Comment

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...