ماں کی قربانی

ماں کی قربانی — غزل
🌹

ماں کی قربانی

رہا ہے سایۂ شفقت، سرِ ایّام ماں جیسی
نہ دیکھی میں نے دنیا میں، محبت عام ماں جیسی
جو ہر آہٹ پہ جاگے، نیند اپنی وار دیتی ہو
کہاں ملتی ہے الفت میں، وہ آرام ماں جیسی
جسے دیکھا نہیں لیکن، دعائیں ساتھ رکھتی ہے
خدا کے بعد بس رہتی ہے، وہی اِک نام ماں جیسی
نہ اپنے غم سناتی ہے، نہ احساں جتا پاتی
عطا کرتی ہے ہر لمحہ، وہ انعام ماں جیسی
جو پیاسے ہونٹ چومے، خود سارا دن رہے پیاسی
نہیں دیکھی میں نے اب تک، کوئی بھی شام ماں جیسی
سلی وہ بھیگ کر لیکن، بچے کو دے حرارت وہ
نہیں ملتی زمانے میں، کوئی ایثار ماں جیسی
ہزاروں زخم کھا کر بھی، لبوں پر شکوہ نہ لائے
نہیں آئی نظر اب تک، کوئی تسلیم ماں جیسی
نہ اشکوں کی شکایت ہے، نہ آنکھوں میں تمنّا ہے
عجب سا راز رکھتی ہے، وہ ہستی خامشی جیسی
یہ تحریر ہے ارقم کی، شعورِ دل کی گہرائی
کہیں بھی ڈھونڈ لو، ملتی نہیں ہے ماں ماں جیسی
— تحریر: ارقم

Comments

Popular posts from this blog

دل کے موسمِ وصال کی سرگوشیاں صرف تیرا انتظار❤️🌹❤️🌹

"ہر لمحہ کرم کا سہارا – حمد باری تعالیٰ"

🌙 — "دل کے خاموش گوشے میں"