Thursday, November 20, 2025

دل کا وہ شکوہ… جو لفظوں تک نہ پہنچا

@import url('https://fonts.googleapis.com/css2?family=Noto+Nastaliq+Urdu:wght@400;600&display=swap'); body { font-family: 'Noto Nastaliq Urdu', serif; background-image: url('https://images.unsplash.com/photo-1501594907352-04cda38ebc29?auto=format&fit=crop&w=1200&q=80'); background-size: cover; background-position: center; background-attachment: fixed; color: #fff; text-align: right; line-height: 2; padding: 50px 15%; backdrop-filter: brightness(0.7) blur(2px); } .container { background: rgba(0, 0, 0, 0.55); border-radius: 20px; padding: 30px 40px; box-shadow: 0 0 25px rgba(255, 255, 255, 0.15); } h1 { text-align: center; font-weight: 600; margin-bottom: 30px; font-size: 2em; color: #e8f3ff; } p { font-size: 1.2em; margin: 12px 0; }

خاموشی کے پیچھے چھپی کہانی

دل میں ایک رشتہ تھا…
نام کا نہیں،
بس احساس کا—
جس کی موجودگی
ہر روز کی فضا کو نرم رکھتی تھی۔

ایک دن
ذرا سی ناراضی نے
ہوا کا رخ بدل دیا۔
کہنے کو بات چھوٹی تھی…
عمر بھر کی ناراضی جتنی بھی نہیں،
مگر دل کے موسم
اکثر چھوٹی باتوں سے ہی بدل جاتے ہیں۔

میں نے ایک لمحے میں
سخت لہجہ اپنا لیا،
اور اگلے ہی لمحے
پچھتاوے نے دل کو گھیر لیا۔

مگر دنیا…
ہمیشہ کہانی میں اپنا لفظ شامل کر دیتی ہے۔
کسی نے ہماری خاموشی کے بیچ
ایسا جملہ رکھ دیا
جس نے ہمارے درمیان
ایک انجانی دیوار کھڑی کر دی۔

پھر وہ لمحہ آیا
جسے جدائی کہتے ہیں—
رخصتی تھی،
الوداع تھا،
یا صرف راستوں کا بدل جانا۔

میں چاہتا تھا
کہ لفظ پھولوں کی طرح بکھر جائیں،
مگر دل کی الجھن
زبان کی دہلیز تک نہ پہنچ سکی۔

وہ شاید یہ سمجھ بیٹھا
کہ میں نے اسے اچھے لفظوں میں رخصت نہیں کیا…
مگر وہ کیا جانے—
اس کے جانے کے بعد
میری دعاؤں نے
کس قدر دیر تک
آسمان کا دامن تھامے رکھا۔

رشتے ناراضی سے نہیں ٹوٹتے،
وہ غلط فہمی سے
خاموش ہو جاتے ہیں۔

کاش وہ جان سکے…
کہ شکوہ لمحے کا تھا،
اور دعا—
آج بھی اسی کے نام سے
میرے دل میں روشن ہے۔

No comments:

Post a Comment

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...