"خاکِ گلگت سے نسبت"
🌄 خاکِ گلگت سے نسبت
(ارقمؔ)
---
لب پہ ہر دم ہے دعا، دل میں وفا رکھتا ہوں
خاکِ گلگت سے میں نسبت کی ادا رکھتا ہوں
چاند، تاروں سے جو اونچی ہیں وہی چوٹیاں ہیں
میں تو ان سب کی محبت دل میں بسا رکھتا ہوں
جس جگہ راہگزر بھی ہو دعا کی صورت
میں وہی بستی کا فرد ہوں جو صبر کی فضا رکھتا ہوں
نانگا پربت ہو یا کے ٹو کی بلند چوٹی
میں پہاڑوں میں بھی نغمۂ وفا رکھتا ہوں
ست پارہ کا سکون ہو، کہ خلتی کی صدا
دل میں ان جھیلوں کا اک عکسِ صفا رکھتا ہوں
دیو سائی کی خاموشی میں چھپی ہے راحت
میں اسی لمحے کو سینے میں چھپا رکھتا ہوں
پاسبانی ہو زباں کی، ہو ثقافت کی مثال
میں گلگت کی روایت کا دیا رکھتا ہوں
پوچھتے ہو کہ ارقمؔ کس دیس کا فرزند ہو تم؟
میں وہ پرچم ہوں جو ہر دل میں ضیا رکھتا ہوں

Comments
Post a Comment