Tuesday, April 14, 2026

فاروقِ اعظمؓ: پیکرِ عدل

مدحِ عمرؓ

مدحِ عمرؓ

جہانِ عدل میں گونجتا ہے ان کا نام، عمرؓ
چراغِ حق سے منوّر ہے ہر کام، عمرؓ
نبی کے بعد جو امت کا نگہبان بنا
وہی تو دین کا مینارِ استحکام، عمرؓ
نہ تخت مانگا، نہ زر کا ہوا غلام کبھی
دلِ فقیر میں چھُپا بادشاہِ اسلام، عمرؓ
نمازِ فجر میں آنسو، خشیتِ ربّ عیاں
زمین لرزتی تھی جن سے، وہی امام، عمرؓ
جہادِ نفس میں فاتح، جلال میں بے مثال
قلم لرزتا ہے لکھنے پہ اُن کے نام، عمرؓ
رعیتوں کے لیے شب بیداریوں میں رہے
چراغِ عدل کے روشن وہی پیام، عمرؓ
جلال ایسا کہ لرزتا تھا باطل تمام
خدا کے نور سے قائم ہے وہ نظام، عمرؓ
دیا وہ عدل کا دستور، ہو گیا دائم
جو بن گیا ہے ابد تک نظامِ عام، عمرؓ
نبی کا عشق دلوں میں وہ بانٹ جاتے تھے
وہی پیامِ وفا، وہی دوام، عمرؓ
جہانِ عشق میں کردار کی کتاب وہی
ہر اک ورق پہ چمکتا ہے ان کا نام، عمرؓ
اَرقم نے مدح لکھی دل کے لہو سے یہ
کہ خود قلم بھی ہو جائے ان کے غلام، عمرؓ

No comments:

Post a Comment

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...