مجھے وہ ملا نہیں، مگر میں تقدیر پہ راضی ہوں
محبت، صبر اور تقدیر کی ایک سچی داستان
زندگی میں کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جو دل کے بہت قریب ہوتی ہیں۔ ہم اُن کے لیے دعائیں کرتے ہیں، خواب سجاتے ہیں اور اپنے آنے والے کل کو اُن سے وابستہ کر لیتے ہیں۔ مگر ہر خواہش ہماری تقدیر کا حصہ نہیں بنتی۔ بعض اوقات ہم جسے دل و جان سے چاہتے ہیں، وہ ہماری قسمت میں نہیں لکھا ہوتا۔
میں نے بھی ایک ایسا خواب دیکھا تھا جو میری آنکھوں کی روشنی بن گیا تھا۔ ایک ایسا نام جو میری دعاؤں میں شامل تھا، ایک ایسی ہستی جس کے تصور سے دل کو سکون ملتا تھا۔ میں نے چاہا کہ وہ میری زندگی کا حصہ بن جائے، مگر شاید اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔
شروع میں دل نے بہت سوال کیے۔ آخر کیوں؟ میری دعا میں کیا کمی تھی؟ میری محبت میں کیا نقص تھا؟ مگر وقت نے آہستہ آہستہ یہ سکھا دیا کہ ہر محرومی سزا نہیں ہوتی، بعض اوقات وہ رحمت کا دوسرا نام بھی ہوتی ہے۔ اللہ وہ دیکھتا ہے جو ہم نہیں دیکھ سکتے، اور وہ جانتا ہے جو ہماری سوچ سے بھی آگے ہوتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور مجھے احساس ہوا کہ زندگی صرف حاصل کرنے کا نام نہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں تاکہ ہمیں محبت، صبر اور اعتماد کا سبق سکھا سکیں۔ وہ ہمارے نہیں ہوتے، مگر ہمیں پہلے سے بہتر انسان بنا جاتے ہیں۔
آج بھی اُس کی یاد دل کے کسی کونے میں موجود ہے، مگر اب اُس یاد کے ساتھ شکوہ نہیں، صرف دعا ہے۔ اگر وہ میری قسمت میں نہیں تھا تو یقیناً اس میں کوئی حکمت ہوگی۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ محبت صرف پانے کا نام نہیں، بلکہ خیر خواہی، احترام اور دعا کا نام بھی ہے۔
اب میں تقدیر سے لڑتا نہیں۔ جو مل گیا اُس پر شکر کرتا ہوں اور جو نہ ملا اُس پر صبر۔ کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا رب میرے لیے وہی چنتا ہے جو میرے حق میں بہتر ہوتا ہے۔
مجھے وہ ملا نہیں، مگر میں تقدیر پہ راضی ہوں۔ کیونکہ بعض اوقات دل کی ہار، زندگی کی سب سے بڑی جیت بن جاتی ہے۔ اور بعض دعائیں قبول نہ ہو کر بھی انسان کو اُس منزل تک پہنچا دیتی ہیں جہاں اُس کے لیے حقیقی سکون لکھا ہوتا ہے۔
غزل
مرے نصیب میں لکھی ہوئی رضا ہی سہی
وہ میرا ہو نہ سکا، اُس کی وفا ہی سہی
جو ٹوٹ کر بھی سنبھل جائے، حوصلہ ہی سہی
لبوں پہ آ نہ سکے تو یہ خامشی سہی
مرے خیال میں جلتا ہوا دیا ہی سہی
مری رگوں میں کہیں اُس کا اک اثر ہی سہی
اب اُن کھنڈروں میں گونجتی صدا ہی سہی
جو میرے حق میں لکھا ہے، وہ فیصلہ ہی سہی
یہی مرے لیے جینے کا حوصلہ ہی سہی
جو مل نہ سکا، وہ اک خوب صورت دعا ہی سہی
وہ میرا ہو نہ سکا، اُس کی دعا ہی سہی

No comments:
Post a Comment