چراغِ مدینہ
نعتِ رسول ﷺ
مدینے کی گلیوں کا جلوہ عجب ہے،
وہاں ہر نظر کا نظارہ عجب ہے،
جہاں مصطفیٰ ﷺ کا ہو ذکرِ کریم،
فضاؤں میں رحمت کی ہوا عجب ہے
قلم جب اٹھے نامِ سرکار لکھنے
تو الفاظ بن جائیں گلزار جیسے
محمد ﷺ کی مدحت ہو جس کی زباں پر
وہی شخص ہے لائقِ اشعار لکھنے۔
نبی ﷺ کی محبت ہے سرمایہ میرا
یہی نور ہے، یہی آسرا میرا
محمد ﷺ کا ذکر ہے ہر دل کی چاہت
انہی کی عطا ہے سہارا میرا۔
ارقمؔ کی صدا بس ہے اتنی خدا سے
مدینہ دکھا دے، کرم اپنی عطا سے
درِ پاک پر آنکھ نم ہو مری بھی
نصیبوں کو نواز دے نبیؐ کی دعا سے۔
Comments
Post a Comment