Sunday, June 28, 2026

خاموشی کی زبان – دل کے ان کہے درد اور محبت کی داستان درد، تنہائی اور محبت پر ایک خوبصورت اردو غزل خاموشی، درد، محبت، غزل، اردو غزل، دل کی باتیں، تنہائی

 

خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے 



یہ کیسی خامشی ہے جو صدا معلوم ہوتی ہے
مرے اندر کوئی بچھڑی دعا معلوم ہوتی ہے

لبوں پر قفل ہیں لیکن نگاہیں بولتی ہیں اب
خموشی بھی تری دل کی صدا معلوم ہوتی ہے

کسی کے ہجر نے دل کو عجب ویران رکھا ہے
یہ بستی آج بھی اس کی صدا معلوم ہوتی ہے

میں اپنے زخم دنیا کو دکھانا بھی نہیں چاہا
مری خاموشی ہی سب کی گواہ معلوم ہوتی ہے

کئی آنسو تھے جو آنکھوں سے بہہ پائے نہیں برسوں
وہی نمی مرے چہرے کی ادا معلوم ہوتی ہے

نہ شکوہ ہے، نہ کوئی حرفِ شکایت لب پہ آتا ہے
مرے رب سے مری چپ اک دعا معلوم ہوتی ہے

وہ جس کو دل نے چاہا تھا، وہی قسمت میں نہ آیا
محبت اب مجھے اک المیہ معلوم ہوتی ہے

کبھی جو مسکرا دیتا ہوں محفل کی ضرورت پر
مری ہنسی بھی کسی غم کی ادا معلوم ہوتی ہے

بہت گہرا سمندر ہے مرے سینے کی دنیا میں
مگر لوگوں کو بس اک خامشی معلوم ہوتی ہے






بعض آوازیں سنائی نہیں دیتیں، مگر روح تک اتر جاتی ہیں۔ بعض لفظ کہے نہیں جاتے، مگر عمر بھر یاد رہتے ہیں۔ اور بعض درد ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان نہیں ملتی، تب خاموشی ان کی ترجمان بن جاتی ہے۔

خاموشی بھی ایک زبان ہوتی ہے، شاید دنیا کی سب سے سچی زبان۔ ایسی زبان جس میں نہ جھوٹ کی آمیزش ہوتی ہے، نہ دکھاوے کی گرد۔ یہ سیدھی دل سے نکلتی ہے اور دل تک پہنچتی ہے۔

کبھی کسی تنہا شخص کی خاموشی کو غور سے سنو۔ اس کے لب ساکت ہوں گے مگر اس کے اندر یادوں کا ایک ہجوم برپا ہوگا۔ کہیں بچھڑ جانے والوں کی صدائیں ہوں گی، کہیں ادھورے خوابوں کی آہیں، کہیں ٹوٹے ہوئے وعدوں کی بازگشت۔ وہ کچھ نہیں کہتا، مگر اس کی خاموشی ایک پوری داستان سناتی رہتی ہے۔

زندگی کے سفر میں کچھ لوگ ایسے بھی ملتے ہیں جن کے جانے کے بعد الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے بہت کچھ کہے، شکوے کرے، سوال کرے، مگر زبان ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ تب آنکھیں خاموش ہو جاتی ہیں، لب خاموش ہو جاتے ہیں، اور انسان اپنی ہی ذات کے ویران صحن میں بیٹھ کر خاموشی کی زبان بولنے لگتا ہے۔

عجیب بات ہے کہ محبت کی پہلی سرگوشی بھی اکثر خاموشی میں جنم لیتی ہے اور جدائی کا آخری نوحہ بھی خاموشی ہی لکھتی ہے۔ ایک خاموش نظر کبھی اقرار بن جاتی ہے، ایک خاموش آنسو پوری قیامت کا منظر پیش کر دیتا ہے، اور ایک خاموش رخصتی عمر بھر کا دکھ بن جاتی ہے۔

میں نے اکثر دیکھا ہے کہ سب سے زیادہ مسکرانے والے لوگ اندر سے سب سے زیادہ خاموش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے درد کو لفظوں کے بازار میں نہیں لاتے۔ وہ اپنے غم کو آنکھوں کے کسی گوشے میں چھپا لیتے ہیں اور دنیا کو صرف مسکراہٹ دکھاتے ہیں۔ مگر رات کے آخری پہر ان کی خاموشی ان کے آنسوؤں کے ساتھ مل کر ایک ایسی نظم لکھتی ہے جسے صرف خدا پڑھ سکتا ہے۔

خاموشی کبھی شکست نہیں ہوتی، کبھی یہ صبر کا بلند ترین مقام بھی ہوتی ہے۔ جب انسان شکایت کرنا چھوڑ دے، گلہ کرنا بھول جائے اور اپنے دکھ کو رب کے سپرد کر دے، تو اس کی خاموشی عبادت بن جاتی ہے۔

شاید اسی لیے کچھ خاموشیاں لفظوں سے زیادہ خوبصورت اور زیادہ دردناک ہوتی ہیں۔ وہ بولتی نہیں، مگر دل کے بند دریچوں پر دستک دیتی رہتی ہیں۔ وہ سنائی نہیں دیتیں، مگر محسوس ضرور ہوتی ہیں۔

آخر میں بس اتنا کہ خاموشی کو کبھی کمزوری مت سمجھو۔ بعض اوقات انسان کے دل میں ایک سمندر موجزن ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک خاموش ساحل کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ ہر درد کو لفظ نہیں ملتے، اور ہر محبت کا اظہار ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ کہانیاں صرف خاموشی لکھتی ہے، اور کچھ زخم صرف خاموشی ہی پڑھ سکتی ہے۔

ارقمؔ رائٹس


No comments:

Post a Comment

جب معلوم ہوا کہ اُس کے دل میں میری جگہ کبھی تھی ہی نہیں | درد بھرا اردو مضمون ایک منفرد، درد بھرا اور شاعرانہ اردو مضمون، جس میں یک طرفہ محبت، وفا، خاموشی اور ٹوٹے ہوئے دل کے احساسات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔"

 دُکھ اِس بات کا نہیں کہ اُس نے مُجھے اپنے دِل سے نِکال دِیا... دُکھ تو صِرف اِس بات کا ہے کہ شاید اُس کے دِل کے اَوراق پر میرا نام کبھی رَق...